حمل کے دوران ہونے والی ذیابیطس: ہر حاملہ خاتون کے لیے جاننا کیوں ضروری ہے
اکثر لوگ جانتے ہیں کہ ذیابیطس خون میں شکر کی مقدار پر اثر ڈالتی ہے، لیکن بہت سے افراد یہ نہیں جانتے کہ حمل کے دوران خواتین کو ذیابیطس کی ایک عارضی مگر سنجیدہ قسم ہو سکتی ہے، جسے گیسٹیشنل ذیابیطس کہا جاتا ہے۔ یہ بیماری حمل کے دوران ظاہر ہوتی ہے اور اگر اس کا صحیح علاج نہ کیا جائے تو یہ ماں اور بچے دونوں کے لیے پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔
گیسٹیشنل ذیابیطس کیا ہے؟
گیسٹیشنل ذیابیطس اُس وقت ہوتی ہے جب جسم حمل کے دوران بڑھتی ہوئی ضرورت کے مطابق انسولین پیدا نہیں کر پاتا۔ اس سے خون میں شکر کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جو ماں اور بچے دونوں کی صحت پر اثر ڈال سکتی ہے۔ یہ عموماً حمل کے دوسرے مرحلے میں ظاہر ہوتی ہے، لیکن بروقت تشخیص اور احتیاطی تدابیر کے ذریعے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
ایک عام مگر اہم مسئلہ
بہت سی خواتین یہ جان کر حیران رہ جاتی ہیں کہ گیسٹیشنل ذیابیطس کوئی نایاب بیماری نہیں۔ تحقیق کے مطابق ہر سال تقریباً 10 فیصد حاملہ خواتین اس مسئلے کا سامنا کرتی ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ اگر ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق خوراک ورزش، اور باقاعدہ معائنہ کیا جائے تو زیادہ تر خواتین صحت مند بچوں کو جنم دیتی ہیں۔
حمل کے دوران یہ کیوں ہوتا ہے؟
حمل کے دوران پلیسینٹا ایسے ہارمونز پیدا کرتا ہے جو بچے کی نشوونما میں مدد دیتے ہیں، لیکن یہی ہارمونز جسم میں انسولین کے اثر کو کم کر دیتے ہیں، جس سے خون میں شکر کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ یہ کسی کی غلطی نہیں بلکہ ایک *قدرتی جسمانی تبدیلی ہے جو بعض اوقات ذیابیطس کا باعث بن سکتی ہے۔
وہ علامات جن کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے
اکثر اوقات گیسٹیشنل ذیابیطس کی کوئی واضح علامات نہیں ہوتیں، اسی لیے باقاعدہ پری نیٹل چیک اپ بہت ضروری ہے۔ تاہم، کچھ علامات جن پر توجہ دینا ضروری ہے:
حد سے زیادہ پیاس لگنا
بار بار پیشاب کا آنا
تھکن یا نقاہت محسوس ہونا
متلی یا قے کا ہونا
دھندلا نظر آنا
بغیر کسی وجہ کے وزنکا کم ہونا
اگر آپ میں یہ علامات ظاہر ہوں تو فوراً اپنے ڈاکٹر سے گلوکوز اسکریننگ ٹیسٹ کے بارے میں مشورہ کریں۔
گیسٹیشنل ذیابیطس کا علاج اور احتیاط
:صحیح طبی رہنمائی اور طرزِ زندگی میں تبدیلی کے ذریعے گیسٹیشنل ذیابیطس کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ
متوازن غذا اختیار کی جائے
باقاعدہ جسمانی سرگرمی رکھی جائے
خون میں شکر کی مقدار کی نگرانی کی جائے
کچھ کیسز میں انسولین تھراپی کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے تاکہ خون میں شکر کی سطح متوازن رہے۔
میمن میڈیکل ہسپتال میں ماہرین کے ذریعے حاملہ خواتین کی دیکھ بھال
ایم ایم آئیہسپتال میں ہمارے ماہر گائناکالوجسٹ اور اینڈوکرائنولوجسٹ گیسٹیشنل ذیابیطس کے علاج میں خصوصی مہارت رکھتے ہیں۔ ہم جدید تشخیصی سہولیات، انفرادی علاج کے منصوبے، اور حمل کے دوران مکمل رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ ایم ایم آئیہسپتال ایک خصوصی پریگنینسی کیئر پروگرام بھی پیش کرتا ہے جہاں حاملہ خواتین کو غذائیت زچگی کی تیاری، اور نومولود کی دیکھ بھال کے بارے میں آگاہی دی جاتی ہے۔
یہ سیشن ہر ہفتے کے روز (ہفتہ) منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ ماؤں کو حمل کے ہر مرحلے میں اعتماد اور رہنمائی حاصل ہوسکے۔
ایم ایم آئی ہسپتال میں اپنا اپوائنٹمنٹ بُک کریں یا ہمارا اگلا سیشن جوائن کریں،تاکہ آپ اپنی ماں بننے کے اس خوبصورت سفرکو صحت مند، پُر اعتماد اور محفوظ بنا سکیں ۔