Call Us Now

021-111-664-664
Book Appointment

ڈاکٹر کی ہدایت کے بناء خود سے دوا لینے کے خطرات: ماہر ڈاکٹر سے رہنمائی کیوں ضروری ہے؟

ڈاکٹر کی ہدایت کے بناء خود سے دوا لینے کے خطرات: ماہر ڈاکٹر سے رہنمائی کیوں ضروری ہے؟

پاکستان میں ڈاکٹر کی ہدایت کے بناءخود  سے دوا لینا ایک عام عادت بنتی جا رہی ہے—چاہے وہ درد کی گولی ہو، اینٹی بایوٹک ہو یا کسی دوست کے مشورے پر لی جانے والی کوئی سیرپ۔ بظاہر یہ طریقہ آسان اور کم خرچ لگتا ہے، مگر حقیقت میں اس ظرح کا علاج  سنگین طبّی مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔

ڈاکٹر کی ہدایت کے بناء خود سے دوا لینا  خطرناک کیوں ہے؟

خود  سے دوا لینااکثر علامات کو مزید بگاڑ دیتا ہے کیونکہ بغیر تشخیص کے ادویات لینا بیماری کی اصل وجہ کو چھپا دیتا ہے۔ مثلاً

اینٹی بایوٹکس کا غلط استعمال جسم کو دوا کے خلاف مزاحم بنا دیتا ہے، جسے اینٹی بایوٹک ریزسٹنس کہا جاتا ہے۔ یہ پاکستان میں بڑھتا ہوا ایک بڑا مسئلہ ہے۔

درد کش ادویات کا ضرورت سے زیادہ استعمال معدے کے زخم، گردوں کے مسائل اور ہائی بلڈ پریشر جیسے خطروں کو بڑھا سکتا ہے۔

الرجی یا کھانسی کی سیرپ کا غلط انتخاب سانس کی بیماریوں کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

وٹامنز اور سپلیمنٹس کا بے جا استعمال ہارمونز کے توازن اور جگر کی صحت کو متاثر کر سکتا ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ مریض بغیر ٹیسٹ اور تشخیص کے اندازے سے دوا لیتے ہیں، جس سے نہ صرف بیماری بڑھ جاتی ہے بلکہ علاج بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

ماہر ڈاکٹر سے مشورہ کیوں ضروری  ہے؟

صرف ڈاکٹر ہی علامات، میڈیکل ہسٹری اور جانچ کے ذریعے درست تشخیص کر سکتا ہے۔
 ایم ایم آئی ہسپتال میں ہمارے ماہرین:

بیماری کی درست پہچان

محفوظ اور مؤثر ادویات

ضرورت کے مطابق لیب ٹیسٹ

مکمل علاج اور فالو اپ

فراہم کرتے ہیں تاکہ مریض غیر ضروری خطرات سے بچ سکیں۔

اپنی صحت کو خطرے میں نہ  ڈالیں
صحیح علاج ہمیشہ صحیح طبی رہنمائی سے شروع ہوتا ہے۔
 
آج ہی ایم ایم آئی ہسپتال میں اپنا چیک اپ بک کروائیں۔

 

Share this post